دنیا
26 مئی ، 2022

رواں سال افغانستان میں 10 لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، رپورٹ

رواں سال افغانستان میں 5 سال سے کم عمر کے 10 لاکھ سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہوشکتے ہیں۔—فوٹو:فائل
رواں سال افغانستان میں 5 سال سے کم عمر کے 10 لاکھ سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہوشکتے ہیں۔—فوٹو:فائل

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال افغانستان میں 5 سال سے کم عمر کے 10 لاکھ سے زائد بچے غذائی قلت  کا شکار ہوشکتے ہیں۔

مئی میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق  افغانستان میں تقریباً 11 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں اگر ایسا ہوا تو یہ تعداد 2018 میں جاری کردہ رپورٹ سے تقریباً دوگنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یوکرین میں جنگ سے بڑھتی ہوئی غربت اور بڑھتی ہوئی  اشیاء کی قیمتیں بھی اس حقیقت کا ایک حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ غذائی قلت کی وجہ سے بچے اپنے قد کے لحاظ سے بہت پتلے اور چھوٹے ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے جسے severe wasting کہا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق severe wasting غذائی قلت کی سب سے فوری نظر آنے والی اور جان لیوا شکل ہے اور پانچ سال سے کم عمر کے کم از کم 13 لاکھ سے زائد  بچے عالمی سطح پر اس کا شکار ہیں۔ جبکہ یہ دنیا بھر میں اس عمر کے گروپ میں سے 5 میں سےایک کی موت کا سبب بنتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ فنڈ برائے اطفال' یونیسیف' (UNICEF) نے کہا ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ ، کورونا وبا اور موسمیاتی تبدیلی  سے  پہلے ہی دنیا بھر میں غذائی جنم لے رہی تھی  اور خاندان اپنے بچوں کی غذائی قوت کو پورا نہیں کرپا رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق یونیسیف نے افغانستان میں  تقریباً ایک ہزار علاج کے ادارے کھولے ہیں جہاں والدین اپنے غذائی قلت کے شکار بچوں کو لا سکتے ہیں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM