Can't connect right now! retry

دنیا
25 مارچ ، 2020

کورونا کے بعد چین میں "ہنٹا وائرس" سے ایک ہلاکت، یہ وائرس کتنا خطرناک ہے؟

فوٹو: بشکریہ گلوبل ٹائمز 

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے خطرناک کورونا وائرس سے ہلاکتوں کا سلسلہ تاحال تھم نہ سکا اور اب چین میں "ہنٹا وائرس" سے ایک شخص کی ہلاکت سامنے آئی ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کی جانب سے صوبے یونان میں جب ہنٹا وائرس سے ایک شخص کی ہلاکت رپورٹ کی گئی تو دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث گھروں میں موجود لوگوں میں خوف کی ایک اور لہر دوڑ گئی ہے۔

اب کورونا وائرس کے خوف سے سہمے ہوئےلوگوں کو تشویش ہے کہ آیا یہ "ہنٹا وائرس" کورونا وائرس کی طرح ہی خطرناک ہوگا؟ کیا یہ کورونا کی طرح انسانوں میں پھیل سکتا ہے؟

کورونا کے بعد سامنے آنے والا ہنٹا وائرس کیا ہے؟

امریکی سینٹر فار ڈیزیزز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق یہ ہنٹا وائرس چوہوں اور اس جیسی نسل کے جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہےجو کہ انسانوں میں پلمونری سنڈروم یعنی سانس کی ایک بیماری کا باعث بنتا ہے۔

یہ وائرس انسانوں میں اس وقت منتقل ہوتا ہے جب چوہوں کے فضلے، پیشاب اور تھوک میں موجود وائرس کے ذرات ہوا کے ذریعے پھیلتے ہیں۔

علاوہ ازیں یہ وائرس چوہوں کے کاٹنے سے بہت ہی کم پھیلتا ہے جب کہ اگر انسان چوہوں کے تھوک، پیشاب یا فضلے سے آلودہ ہونے والی جگہ کو چھو کر اپنے منہ یا ناک پر ہاتھ لگائیں گے تب بھی یہ وائرس منتقل ہوسکتا ہے۔

کیا ہنٹا وائرس کورونا کی طرح ہاتھ لگانے سے پھیل سکتا ہے؟

امریکی سینٹر فار ڈیزیزز کنٹرو ل اینڈ پریونشن نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکا میں ہنٹا وائرس سے فرد با فرد پھیلنے کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے لیکن چین اور ارجنٹائن میں ہنٹا وائرس کی ایک قسم کے اینڈس وائرس سے فرد با فرد پھیلنے کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

ہنٹا وائرس کی کیا علامات ہیں؟

ہنٹا وائرس کی علامات میں تھکاوٹ، بخار اور پٹھوں میں تکلیف شامل ہےجب کہ متاثرہ شخص کو قے، چکر اور سر درد کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ ابتداء میں 4 سے 10 دنوں کے اندر اندر وائرس سے متاثرہ شخص کو کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور ان کے پھیپھڑوں میں پانی بھی بھر سکتا ہے۔

ہنٹا وائرس پہلی مرتبہ کب سامنے آیا؟

اس وائرس کا پہلا کیس 1978 میں جنوبی کوریا میں سامنے آیا تھا جب کہ امریکی سینٹر فار ڈیزیزز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق امریکا میں 1993 میں ہنٹا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا، اس وائرس سے ہلاکتوں کی شرح 38 فیصد ہے۔ 

خیال رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں سائنسدان 18 ہزار سے زائد افراد کی جانیں لینے والے کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری میں مصروف میں اور اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM